’خیبر پختونخوا میں 15 فیصد لڑکیاں 18 سال سے قبل مائیں بن جاتی ہیں ‘ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 21 فیصد لڑکیوں کی شادیاں اٹھارہ سال سے کم عمری میں ہوتی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ وویمن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہمارے صوبے میں 74 فیصد شادیاں کم عمری میں کی جاتی ہے

سید نذیر آفریدی
پاکستان میں کم عمر کی شادیوں کی روک تھام کے لئے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ آج بھی خیبر پختونخواہ سمیت بلوچستان اور وفاق میں انگریز زمانے کا چائلڈ میرج ایکٹ 1929 نافذ ہے جس میْں لڑکی کی عمر کا حد سولہ سال ہے۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی کارکن اور غیر سرکاری ادارے بلیو وئینز کے پروگرام کوارڈینیٹر قمر نسیم نے اسلام آباد میں ایک پروگرام کے دوران کیا۔
ٹی این این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 21 فیصد لڑکیوں کی شادیاں اٹھارہ سال سے کم عمری میں ہوتی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ وویمن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہمارے صوبے میں 74 فیصد شادیاں کم عمری میں کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15 فیصد لڑکیاں 18 سال سے قبل مائیں بن جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں یہ تناسب باقی صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
پنجاب میں یہ چھ فیصد، سندھ میں 10 فیصد، اسلام آباد میں پانچ فیصد، بلوچستان میں 12 فیصد اور قبائلی علاقوں میں یہ شرح 13 فیصد ہے.
انہوں نے کہا کم سنی کے شادیوں کو روکنے کے لئے موٗثر قانون سازی کی ضرورت ہے، پنچاب اور سندھ کی حکومتوں نے اس حوالے سے نئے قوانین بنوائے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوجستان میں آج بھی نوآبادیاتی دور کا قانون نافذ ہے جبس میں قانون کی خلاف ورزی کی سزا ایک ہزار روپے اور ایک ماہ قید ہے جو آج کے دور کیساتھ قطعٰ مطابقت نہیں رکھتی۔
پروگرام کے دوران نیشینل کوارڈینیشن گروپ کے عہدیدارویلری خان یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان میں کم عمر کی شادیوں کے بارے میں لوگوں کی سوچ تبدیل ہورہی ہے کیونکہ لوگوں کو اب ادراک ہے کہ بچپن کی شادیوں سے خواتین میں صحت اور تعلیم سے دوری جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں میں غذائیت کی کمی کے مسئلے پر قابو کرنے اور خواتین کی صحت میں بہتری لانے کے لئے کم عمر کی شادیوں کو روکنا ہوگا اور اس کے لئے آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق کم عمری میں ماں بننا زچہ اور بچہ دونوں کی صحت پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے

Facebook Comments

POST A COMMENT.